کیا ملت جعفریہ کے گمشدہ افراداحسان اللہ احسان سے بھی بڑے مجرم ہیں؟ علامہ راجہ ناصر عباس

IQNA

کیا ملت جعفریہ کے گمشدہ افراداحسان اللہ احسان سے بھی بڑے مجرم ہیں؟ علامہ راجہ ناصر عباس

9:51 - October 15, 2017
خبر کا کوڈ: 3503666
بین الاقوامی گروپ: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی تھانہ لیاری میں بزرگ شیعہ عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی سے ملاقات کی۔
کیا ملت جعفریہ کے گمشدہ افراداحسان اللہ احسان سے بھی بڑے مجرم ہیں؟ علامہ راجہ ناصر عباس
ایکنانیوز - شفقنا کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی تھانہ لیاری میں بزرگ شیعہ عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی سے ملاقات کی۔ انہوں نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے علامہ حسن ظفر نقوی کے عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک لاقانونیت اور عدم تحفظ کی فضا میں جھکڑاہوا ہے۔ قانون و انصاف کی حکمرانی کتابی قصے کہانیاں بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے علامہ حسن ظفر نقوی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا۔بعد ازاں علامہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ارض پاک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔پارلییمنٹ کے وقار کو مجروح اورذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر مقدم کیا جا رہا ہے۔نواز شریف اینڈ کمپنی ملک کی اس تباہی کی ذمہ دار ہے۔ قومی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر من پسند افراد کو اربوں روپے کے فائدے پہنچائے جا رہے ہیں۔وزرا ملک بچانے کی بجائے ایک خاندان کے دفاع میں مصروف ہیں ۔ملک میں غیر یقینی صورتحال نے بیرونی سرمایہ کاروں کا راستہ روک رکھا ہے۔ملک کو بچانے کے لیے کرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا قانون و انصاف کا یہ حال ہے کہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہمیں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود بے حس حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ملت تشیع کے سینکڑوں نوجوان کئی سالوں سے لاپتا ہیں۔انہیں غیر آئینی طریقے سے گھروں سے اٹھایا گیا اور کئی سال گزرنے کے بعد بھی انہیں نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اہل خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔کیا ان نوجوانوں نے احسان اللہ احسان جیسا جرم کیا ہے کہ انہیں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا۔قانون نافذ کرنے والے خود قانونی شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔لاپتا لوگ اگر مجرم ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے سزا دلائی جائے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ریاستی ادارے ہماری اس بے چینی سے دانستہ طور پر لاعلم بنے ہوئے ہیں۔ہمیں نہ صرف ریاستی جبر کا سامنا ہے بلکہ اس ملک میں دہشت گردی کا بھی سب سے زیادہ شکار ہم رہے ہیں ۔ ہمارے ہزاروں نوجوان مختلف سانحات کی نذر ہوئے لیکن آج تک ذمہ دارن کو سزا نہیں سنائی گئی۔پورے دنیا جانتی ہے کہ مظلوم کربلا کے ماننے والے کبھی ظالم نہیں ہو سکتے ۔ہم عزاداری کرتے ہیں پھر بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ جو عناصر مذہب کے نام پر دہشت اور فرقہ واریت پھیلاتے ہیں انہیں ریاست تحفظ فراہم کرتی ہے۔حکومت کا متعصبانہ طرز عمل ہمارے اندر سے وطن کی محبت ختم نہیں کر سکتا۔اپنے مطالبات قانونی و آئینی طریقے سے منوا کر رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر اس ملک میں استحکام نہیں آ سکتا۔حکومتی صفوں میں موجود کالی بھیڑیں اس ملک کے استحکام کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ ان کو بھی عیاں کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ علامہ حسن ظفر نقوی اور گمشدہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک کی وہ مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کی طرف سے مذاکرات میں ہمیں جو یقین دہانی کرائی جاتی ہے وہ سوائے طفل تسلی کے اور کچھ نہیں،ہم حکومت کو واشگاف انداز میں بتانا چاہتے ہیں کہ جیل بھرو تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارے نوجوانوں کو بازیاب نہیں کرایا جاتا۔ 
اسی سلسلے میں کل نماز جمعہ کے بعد جامع مصطفے عباس ٹاؤن کراچی سے علامہ احمد اقبال رضوی جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں اپنی گرفتاری پیش کیں، پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما سید ناصرشیرازی، علامہ باقر زیدی،علامہ نقی نقوی، علی حسین نقوی اور احسن عباس رضوی بھی موجود تھے۔

نظرات بینندگان
captcha